Woh Laut Ke Na Aaya In Urdu Stories

Woh Laut Ke Na Aaya In Urdu Stories

Woh Laut Ke Na Aaya In Urdu StoriesWoh Laut Ke Na Aaya In Urdu (The One Who Never Returned)

وہ لوٹ کے نہ آیا


رات کی تاریکی گہری ہو چکی تھی۔ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ صرف ہواؤں کی سرسراہٹ اور دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ زینب صحن میں بچھی چارپائی پر بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی۔ ہر رات کی طرح آج بھی وہ اسی امید میں بیٹھی تھی کہ شاید دروازہ کھلے، کوئی صدا آئے، اور اس کا لختِ جگر، اس کا بیٹا “حیدر” لوٹ آئے۔

حیدر اُس کا اکلوتا بیٹا تھا، آنکھوں کا تارا، دل کا قرار۔ بچپن سے ہی ہونہار، ذہین، اور سلجھا ہوا۔ گاؤں کے اسکول سے میٹرک کے بعد شہر گیا، کالج میں داخلہ لیا، خواب بڑے تھے — ایک دن بڑا آدمی بننے کے، ماں کے سارے دکھ ختم کرنے کے، باپ کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر سر فخر سے بلند کرنے کے۔

حیدر جب بھی گھر آتا، گاؤں جیسے جگمگا اُٹھتا۔ سب کو معلوم ہوتا کہ حیدر آیا ہے، اُس کی ہنسی، اُس کی باتیں، اُس کی نظریں سب کو زندگی کا woh laut ke na aaya احساس دلاتی تھیں۔ لیکن ایک دن… وہ گیا، اور پھر لوٹ کے نہ آیا۔


یہ کوئی معمولی دن نہ تھا، نہ ہی کوئی عام رات۔ وہ سردیوں کی ایک خنک صبح تھی جب زینب نے حیدر کو آخری بار دروازے پر کھڑے دیکھا۔ وہ ماں کے قدموں کو چھو کر بولا:
“ماں، دعا کرنا۔ بس یہ آخری سیمسٹر ہے۔ پھر نوکری مل جائے گی، تمہیں اپنے پاس شہر لے جاؤں گا۔ اب یہ پرانا گھر، یہ ٹپکتی چھت، یہ اندھیرے، سب ماضی ہو جائیں گے۔”

زینب نے اُس کے ماتھے کو چوما، آنسو پونچھے اور خاموشی سے دعاؤں کا سہارا لے لیا۔

وقت گزرتا گیا، دن مہینوں میں بدلے، مہینے برسوں میں… اور وہ وعدہ، وہ عہد… بس زینب کے دل میں رہ گیا۔

Woh Laut Ke Na Aaya

دو سال بعد

پہلے تو فون آنا بند ہوا۔ پھر کالز گئیں لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ کالج کے دوستوں سے پتہ کیا، سب نے لاعلمی ظاہر کی۔ پولیس اسٹیشن کے چکر لگائے، اخبار میں اشتہار دیا، فیس بک پر تصویریں لگائیں، ہر در کھٹکھٹایا۔ مگر نہ کوئی خبر، نہ کوئی پیغام۔ حیدر جیسے ہوا میں تحلیل ہو گیا ہو۔

لوگوں نے کہنا شروع کر دیا:
“شاید شہر کی رنگینیاں لے ڈوبیں،”
“ہو سکتا ہے کسی مصیبت میں پھنس گیا ہو،”
“شاید وہ لوٹنا ہی نہیں چاہتا تھا…”

زینب کے دل نے کبھی ان باتوں کو سچ نہیں مانا۔ اُسے یقین تھا کہ حیدر ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ ضرور کسی مصیبت میں ہے، ضرور لوٹے گا۔


پانچ سال بعد

وقت نے زینب کے چہرے پر جھریاں ڈال دی تھیں، بالوں کو چاندی کر دیا تھا۔ مگر اس کی آنکھیں اب بھی دروازے پر جمی رہتیں، جیسے ہر لمحہ منتظر ہوں۔ وہ اب کم بولتی تھی، زیادہ خاموش رہتی۔ بس کبھی کبھی خود سے کہتی:

“میرا بچہ آئے گا… بس آ رہا ہوگا…”

پڑوسن رشیدہ اکثر سمجھاتی، “زینب، اب چھوڑ بھی دے یہ آس۔ جو چلا گیا وہ لوٹ کے نہیں آتا۔ دیکھ، زندگی رکتی نہیں، وقت تھمتا نہیں۔”

مگر زینب ہر بار ایک ہی جواب دیتی، “ماں کی دعا کبھی خالی نہیں جاتی رشیدہ۔ میرا حیدر ضرور آئے گا۔”

Urdu Dil Ki Baat (The Matter of the Heart)

ایک دن…

دروازے پر دستک ہوئی۔ زینب جو نیم غنودگی میں تھی، ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ دل دھڑکنے لگا، آنکھوں میں روشنی سی آ گئی۔ جیسے برسوں کا انتظار ختم ہونے کو ہو۔

دروازہ کھولا تو سامنے ایک جوان لڑکا کھڑا تھا، عمر کوئی بیس سال کے قریب، آنکھوں میں نمی، ہاتھ میں ایک پرانا سا لفافہ۔

“امّاں جی… آپ زینب ہیں؟”

زینب کی آواز رندھ گئی، صرف سر ہلا سکی۔

“یہ خط… آپ کے بیٹے حیدر کا ہے۔ وہ میرے ساتھ جیل میں تھا… لیکن… وہ اب نہیں رہا۔”

زینب کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ ہاتھ سے دروازہ چھوٹ گیا۔ آواز جیسے کہیں گم ہو گئی۔


خط کا متن کچھ یوں تھا:

“میری پیاری ماں،

اگر یہ خط تم تک پہنچتا ہے تو شاید میں اس دنیا میں نہ رہوں۔ ماں، میں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، بس ایک غلط وقت، ایک غلط جگہ پر تھا۔ مجھے دہشتگردوں کے ساتھ ہونے کے شک میں پکڑا گیا۔ سالوں سے جیل میں ہوں، عدالتیں خاموش ہیں، انصاف کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔

ماں، ہر دن تمہیں یاد کرتا ہوں، تمہاری دعاؤں کی خوشبو اب بھی میرے وجود میں ہے۔ مجھے یقین ہے، تم آج بھی انتظار کرتی ہوگی۔ لیکن ماں، اگر میں نہ لوٹ سکوں، تو بس یہ جان لینا کہ تمہارا حیدر تم سے بے وفا نہیں تھا۔ وہ تمہیں چھوڑ کر نہیں گیا، بس قید ہو گیا، وقت کی، حالات کی، اور اس ظالم نظام کی قید میں۔

دعا ہے کہ اگلے جنم میں پھر تیرا بیٹا بنوں…

تیرا حیدر


زینب وہ خط سینے سے لگا کر زمین پر بیٹھ گئی۔ اُس کی آنکھیں خشک تھیں، جیسے آنسو بھی تھک گئے ہوں۔ بس ایک سناٹا تھا، ایک خاموش چیخ، ایک ٹوٹا ہوا خواب۔

لوگ جمع ہوئے، کسی نے دلاسہ دیا، کسی نے آنکھ پونچھیں۔ مگر زینب اب خاموش تھی، جیسے برسوں کا انتظار ایک جھٹکے میں ختم ہو گیا ہو۔

بس اب وہ ایک ہی بات دہراتی رہی:
“وہ لوٹ کے Woh Laut Ke Na Aaya نہ آیا… مگر میری دعائیں اُس تک پہنچ گئیں۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *