Urdu Nayi Subah (New Morning)
نئی صبح
رات کی تاریکی ہر جانب چھائی ہوئی تھی۔ سناٹا ایسا کہ جیسے وقت تھم گیا ہو۔ صرف گھڑی کی ٹک ٹک اور کبھی کبھار دور سے آتی کتے کے بھونکنے کی آواز خاموشی کو چیرتی۔ وہ چھوٹا سا کمرہ جس میں بوسیدہ سا پنکھا آہستہ آہستہ گھوم رہا تھا، ایک غریب مگر خوددار عورت کا مسکن تھا — ریحانہ۔
ریحانہ ایک محنت کش خاتون تھی۔ عمر شاید چالیس کے قریب، لیکن چہرے پر جھریاں وقت سے پہلے اُتر آئی تھیں۔ شوہر کئی سال پہلے ایک حادثے میں چل بسا تھا، اور ریحانہ نے تب سے اپنے دو بچوں کو اکیلے ہی پالا تھا۔ دن میں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی، اور رات کو سلائی کا کام کر کے تھوڑی بہت آمدنی جمع کرتی۔ وہ جانتی تھی کہ غربت ایک عارضی دشمن ہے، اگر انسان ہمت نہ ہارے۔
ریحانہ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ اُس کی بیٹی عائشہ ڈاکٹر بنے۔ “بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتیں، بیٹی اگر تعلیم یافتہ ہو جائے تو پورا گھر روشن ہو جاتا ہے”، وہ اکثر کہتی۔
عائشہ بہت ذہین تھی، اسکول میں ہمیشہ نمایاں نمبر لاتی، لیکن اب وہ کالج میں داخلے کے لیے فکر مند تھی۔ فیس بہت زیادہ تھی اور ریحانہ کی جمع پونجی نہایت محدود۔
ایک رات عائشہ چپ چاپ ریحانہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی۔
“امی، اگر آپ کہیں تو میں ٹیوشن پڑھانے لگوں۔ میرے دو کلاس فیلوز کے چھوٹے بہن بھائی ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ میں اُنہیں پڑھاؤں۔”
ریحانہ نے بیٹی کو غور سے دیکھا، اس کی آنکھوں میں روشنی تھی، لیکن تھکن بھی نمایاں تھی۔
“نہیں بیٹا، تم صرف اپنی پڑھائی پر دھیان دو۔ تمہارے ابو اگر ہوتے تو تمہیں اتنا پریشان کبھی نہ دیکھتے۔ لیکن دیکھو، ماں دعا کرے تو تقدیر بھی بدل جاتی ہے۔”
اس رات ریحانہ سجدے میں بہت دیر تک روتی رہی۔ اس نے اللہ سے ایک نئی صبح مانگی، روشنی کی ایک کرن، جو ان کے اندھیرے کمروں کو امید سے بھر دے۔
Tuta Hua Tara Urdu Stories | Falling Star
صبح کا وقت تھا۔ ریحانہ حسبِ معمول ناشتہ بنانے میں مصروف تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے محلے کی بیگم سلیم کھڑی تھیں، جن کے ہاں ریحانہ پچھلے تین سال سے کام کر رہی تھی۔
“ریحانہ، تم کل آ نہیں سکیں، خیریت؟”
“جی بیگم صاحبہ، تھوڑا بخار تھا۔ آج آ جاؤں گی صفائی کے لیے۔”
بیگم سلیم نے مسکراتے ہوئے کہا،
“نہیں، آج کام کی بات کرنے آئی ہوں۔ میری بھانجی لندن سے آئی ہے، وہ یہاں ایک فلاحی اسکول کھولنا چاہتی ہے۔ اسے تم جیسی محنتی عورتوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف سلائی جانتی ہوں بلکہ لڑکیوں کو ہنر سکھا سکیں۔ تمہیں اگر کام میں دلچسپی ہو تو تنخواہ بھی اچھی ملے گی اور وقت بھی قدرے بہتر ہوگا۔”
ریحانہ کی آنکھوں میں نمی آ گئی، جیسے اس کی دعا قبول ہو گئی ہو۔ وہ بے ساختہ بولی،
“بیگم صاحبہ، میں… میں حاضر ہوں۔ اللہ نے آج میری سُن لی۔”
کچھ ہی دنوں میں ریحانہ نے اسکول کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ وہ نہ صرف سلائی سکھاتی بلکہ بیوہ خواتین کو خود کفیل بنانے کا جذبہ بھی دیتی۔ عائشہ کو جب پتا چلا تو وہ بے حد خوش ہوئی۔
ریحانہ کی آمدنی میں بہتری آئی تو اس نے سب سے پہلے عائشہ کا کالج میں داخلہ کروایا۔ اب عائشہ شام میں ٹیوشن نہیں دیتی تھی بلکہ خود دل لگا کر پڑھائی کرتی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی ماں نے کتنی دعاؤں، کتنی قربانیوں سے اسے یہاں تک پہنچایا ہے۔
مہینے گزرتے گئے۔ عائشہ نے میڈیکل انٹری ٹیسٹ پاس کر لیا۔ جب لیٹر آیا تو ریحانہ نے وہ کاغذ سینے سے لگا لیا اور بہت دیر تک روتی رہی — لیکن یہ آنسو دکھ کے نہیں، شکر کے تھے۔
Urdu Nayi Subah (New Morning)
وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ پانچ سال بعد ایک حسین صبح، ایک نیا سورج طلوع ہوا۔ عائشہ سفید کوٹ پہنے، ہاتھ میں سٹیتھو سکوپ لیے اسپتال کے گیٹ پر کھڑی تھی۔ اس کے ماتھے پر پسینہ تھا لیکن چہرے پر مسکراہٹ۔ آج وہ ڈاکٹر بن گئی تھی۔
ریحانہ اس کے ساتھ تھی، ایک سادہ سی ساڑھی پہنے، کمزور مگر مطمئن۔ اسپتال کے باہر وہی بیگم سلیم اور اسکول کی وہ لڑکیاں بھی موجود تھیں جنہیں ریحانہ نے ہنر سکھایا تھا۔ سب نے مل کر عائشہ کو پھول پہنائے۔
کسی نے عائشہ سے پوچھا،
“ڈاکٹر صاحبہ، آپ کو یہاں تک پہنچنے میں سب سے زیادہ مدد کس کی لگی؟”
عائشہ نے ماں کی طرف دیکھا اور کہا،
“میری ماں، جن کی دعاؤں نے میرے لیے نئی صبح پیدا کی۔”
ریحانہ نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا، جیسے خدا خود کہہ رہا ہو — “نئی صبح تمہارے صبر، محنت اور دعا کی کامیابی ہے۔”
