Urdu Jugnu Ki Roshni (The Light of the Firefly)

Jugnu Ki Roshni (The Light of the Firefly)

Jugnu Ki Roshni (The Light of the Firefly)

جُگنو کی روشنی

اندھیری رات تھی۔ گاؤں کے کچے راستے خاموش تھے۔ دور پہاڑوں کے پیچھے بادل گرج رہے تھے اور کبھی کبھار بجلی کی چمک سے درختوں کے سائے دیواروں پر لرزتے دکھائی دیتے۔

چھوٹا سا گاؤں “نورپور”، ہمیشہ کی طرح رات کو جلدی سو گیا تھا۔ لیکن اس رات ایک بچہ جاگ رہا تھا۔ اُس کا نام آفاق تھا۔ آفاق کی عمر بارہ سال تھی، آنکھوں میں تجسس کی چمک اور دل میں ایک عجیب سی بےقراری لیے وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا تھا۔

“امی!” آفاق نے آہستہ سے آواز دی، “کیا جُگنو آسمان سے آتے ہیں؟”

امی نے نیند بھری آواز میں کہا، “نہیں بیٹا، جُگنو زمین کے کیڑے ہوتے ہیں، مگر اُن کے اندر روشنی ہوتی ہے۔”

“مگر اماں، روشنی تو سورج میں ہوتی ہے، آگ میں ہوتی ہے۔ جُگنو میں کہاں سے آتی ہے روشنی؟”

امی نے کروٹ بدلی، “اللہ کی قدرت ہے بیٹا، ہر مخلوق کو کچھ نہ کچھ خاص دیا ہے۔ سوجا، رات بہت ہو گئی ہے۔”

لیکن آفاق کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ اُس کے دل میں ایک سوال بار بار گونج رہا تھا: “کیا میرے اندر بھی کوئی روشنی ہے؟”


بابا جی کا پیغام

اگلے دن اسکول سے واپسی پر آفاق گاؤں کے کنارے والے باغ میں چلا گیا۔ وہاں ایک بہت ہی بوڑھا شخص بیٹھا کرتا تھا، سب اُسے “بابا جی” کہتے تھے۔ وہ پرانی کہانیاں سناتے، گزرے زمانوں کے قصے اور کچھ ایسی باتیں جو کتابوں میں نہیں ملتیں۔

آفاق نے بابا جی کے سامنے بیٹھ کر اپنا سوال دہرا دیا:
“بابا جی، کیا ہر کسی کے اندر کوئی روشنی ہوتی ہے؟”

بابا جی نے مسکرا کر کہا، “ہاں بیٹا، ہر انسان کے اندر ایک جُگنو ہوتا ہے، جو اُسے راستہ دکھاتا ہے۔ لیکن زیادہ تر لوگ اُسے تلاش نہیں کرتے، اور کچھ تو دیکھنے کے باوجود ڈر جاتے ہیں۔”

آفاق حیران ہوا، “پر میں اپنے اندر کے جُگنو کو کیسے تلاش کروں؟”

بابا جی نے کہا، “تلاش کرنے والے کو راستے خود بخود دکھائی دینے لگتے ہیں۔ بس سچ بولنا، دل سے نیکی کرنا، اور جو خواب تمہیں رات کو جگائے رکھیں، اُن کا پیچھا کرتے رہنا۔”

Jugnu Ki Roshni (The Light of the Firefly)

روشنی کی تلاش

اس دن کے بعد آفاق بدل گیا۔ وہ ہر بات کو غور سے سنتا، دوسروں کی مدد کرتا اور ہر رات اپنے دل سے باتیں کرتا۔

ایک رات جب پورے گاؤں میں بجلی چلی گئی، سب پریشان ہو گئے۔ اماں نے دیا جلایا، لیکن وہ بھی بجھ گیا۔ باہر آسمان پر گھنے بادل چھا گئے۔ کوئی روشنی نہ رہی۔

اسی اندھیرے میں آفاق نے دیکھا — اُس کے کمرے میں ایک چھوٹا سا جگنو آ کر بیٹھا۔ وہ جھلک رہا تھا، جیسے اندھیرے میں کسی امید کی چمک ہو۔

آفاق آہستہ سے مسکرایا، “تو کیا تم میری روشنی ہو؟”

جگنو نے ایک لمحہ چمک کر جیسے ہاں کہی، اور پھر آفاق کے ہاتھ پر بیٹھ گیا۔

اگلی صبح، آفاق نے بابا جی کو سب بتایا۔ بابا جی نے آفاق کے سر پر ہاتھ رکھا، “بیٹا، جس نے اپنے اندر کے اندھیرے کو پہچان لیا، وہی اپنی روشنی کو پا لیتا ہے۔ جگنو صرف نشان ہوتا ہے، اصل روشنی تو تمہارے دل میں ہے۔”


وقت گزرتا گیا

آفاق بڑا ہوتا گیا۔ اُس نے اپنی تعلیم مکمل کی، پھر ایک ٹیچر بن گیا۔ وہ گاؤں کے بچوں کو نہ صرف کتابوں کی تعلیم دیتا بلکہ اُنہیں بھی اُن کے “جُگنو” تلاش کرنے کی ترغیب دیتا۔ ہر سال وہ بچوں کو رات کے وقت جگنو دیکھنے لے جاتا اور اُنہیں کہتا:

“یہ جگنو ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ چھوٹی سی روشنی بھی بڑے اندھیرے کو چیر سکتی ہے۔”

لوگ کہتے، آفاق خود بھی جگنو جیسا ہو گیا ہے — جہاں جاتا ہے، وہاں کچھ روشنی ضرور چھوڑ آتا ہے۔

urdu akhri khwahish stories the last wish


اختتامیہ

ایک رات جب آفاق کافی عمر رسیدہ ہو چکا تھا، اُس نے اپنے پوتے کو ساتھ بٹھایا اور کہا:

“بیٹا، یاد رکھو، تمہارے اندر بھی ایک جگنو ہے۔ اُسے تلاش کرو، اُس پر یقین کرو، اور جب بھی زندگی میں اندھیرا چھا جائے، تو اپنے دل کی روشنی سے راستہ تلاش کرنا۔”

پوتے نے پوچھا، “دادا ابو، کیا وہ جگنو اب بھی آپ کے پاس ہے؟”

آفاق نے آسمان کی طرف دیکھا، مسکرایا اور کہا:

“ہاں، وہ کبھی نہیں جاتا۔ وہ بس وقت پر چمکتا ہے، اور میرے ساتھ چلتا ہے۔”

اور اُس رات، آفاق کے کمرے میں پھر ایک جگنو چمکا — جیسے کہانی مکمل ہو گئی ہو، اور روشنی ایک اور دل میں جا بسی ہو۔


پیغام

“جُگنو کی روشنی” صرف ایک کیڑے کی چمک نہیں، یہ ایک علامت ہے — کہ ہر انسان کے اندر روشنی موجود ہے۔ وہ روشنی اُمید کی ہے، نیکی کی ہے، اور خودی کی ہے۔ اندھیرا کتنا بھی گہرا ہو، اگر ہم اپنے اندر جھانکیں، تو ہمیں راستہ ضرور ملتا ہے۔

 

youtube

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *