Urdu Andhere Se Roshni Tak (From Darkness to Light)
اندھیرے سے روشنی تک
رات کی تاریکی جیسے روح پر چھا گئی ہو۔ ہر طرف سناٹا، سنّاٹا اور بے بسی کا راج تھا۔ زینب کا دل جیسے پتھر بن چکا تھا، آنکھیں خشک ہو چکی تھیں، اور امید جیسے کہیں دفن ہو چکی تھی۔ وہ اپنے کمرے کے کونے میں بیٹھی، دیوار سے ٹیک لگائے، خالی نظروں سے چھت کو گھور رہی تھی۔
زینب کی زندگی کبھی ایسی نہ تھی۔ وہ ایک خوش باش لڑکی تھی، جس کے خواب آنکھوں میں چمکتے تھے، اور ارادے آسمان کو چھونے والے تھے۔ لیکن زندگی ہمیشہ ویسی نہیں رہتی جیسی دکھائی دیتی ہے۔ باپ کے انتقال کے بعد جیسے سب کچھ بدل گیا۔ ماں نے محنت کی، سلائی کر کے بچوں کو پالا، لیکن غربت، تنگدستی، اور زمانے کی تلخ حقیقتوں نے زینب کو وقت سے پہلے بڑا کر دیا۔
تعلیم کی جنگ
زینب شروع سے ہی پڑھائی میں بہت اچھی تھی۔ استاد بھی اس کی ذہانت کے معترف تھے۔ دسویں جماعت میں اس نے ضلع میں پہلی پوزیشن حاصل کی، تو پورا گاؤں حیران رہ گیا۔ لیکن کالج کے دروازے پر قدم رکھنے سے پہلے ہی غربت نے آ کر دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ ماں کی کمائی گھر کے خرچ اور بھائی بہنوں کی ضروریات پوری کرنے میں لگ جاتی۔
زینب کی آنکھوں میں خواب باقی تھے، لیکن وسائل ختم ہو چکے تھے۔
“امی، مجھے آگے پڑھنا ہے۔ میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہوں،” زینب نے ایک دن ہمت کر کے کہا۔
ماں نے پیار سے اس کے بال سنوارے، اور کہا:
“بیٹا، میں بھی چاہتی ہوں کہ تم پڑھو، لیکن پیسہ کہاں سے لاؤں؟”
زینب نے کچھ نہیں کہا، صرف دل میں عہد کیا کہ وہ خود اپنے خوابوں کو پورا کرے گی۔ وہ محلے کے بچوں کو ٹیوشن دینے لگی، شام کو سلائی کا کام کرنے لگی، اور رات کو خود پڑھنے بیٹھ جاتی۔
Woh Pehla Pyaar (The First Love)
نئے راستے، نئی مشکلات
دو سالوں میں زینب نے انٹرمیڈیٹ بھی امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ شہر کے ایک میڈیکل کالج میں داخلہ ملا، لیکن فیس اور ہاسٹل کا خرچ کہاں سے آتا؟ کچھ خیراتی اداروں سے رجوع کیا، کچھ اسکالرشپ ملی، اور کچھ اخراجات کے لیے پھر سے محنت کا دامن تھام لیا۔
شہر میں رہ کر پڑھنا آسان نہ تھا۔ ہاسٹل کے چھوٹے سے کمرے میں، روزانہ کے کھانے کے لیے کبھی کبھی ایک وقت کا ناشتہ چھوڑنا پڑتا۔ لیکن زینب ہمت نہ ہاری۔ دن میں کالج، شام کو آن لائن ٹیوٹر، رات کو پڑھائی۔ نیند، آرام، تفریح — سب خواب بن کر رہ گئے۔
اندھیرے کی انتہا
ایک دن جب زینب کا امتحان قریب تھا، اس کی ماں کو دل کا دورہ پڑا۔ وہ فوراً گاؤں پہنچی، اور اسپتال میں داخل کرایا۔ ماں کی حالت نازک تھی، اور پیسے کم۔ اس بار جیسے ہمت جواب دے گئی۔
کمرے کے باہر بینچ پر بیٹھے، زینب نے آسمان کی طرف دیکھا اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کے ساتھ کہا:
“یا اللہ! اگر واقعی تُو ہے، تو مجھے میری ماں بچا دے… میرے خوابوں سے زیادہ وہ عزیز ہے۔”
اسی رات کسی مخیر شخص نے اسپتال کے بل ادا کر دیے۔ ڈاکٹر نے کہا:
“کسی نے زینب کی محنت کا پھل دے دیا ہے۔”
زینب نے زندگی میں پہلی بار سجدے میں جا کر رو کر دعا مانگی، شکر ادا کیا، اور ایک نئی طاقت کے ساتھ لوٹ آئی۔
روشنی کا آغاز
ماں کی صحت سنبھل گئی، زینب پھر سے پڑھائی میں جُت گئی۔ چار سال بعد، وہ دن آیا جب اس نے ایم بی بی ایس مکمل کر لیا۔ کالج کی تقریب میں جب اس کا نام پکارا گیا، تو اسٹیج پر جاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ لیکن یہ آنسو غم کے نہیں، فخر، صبر، اور کامیابی کے تھے۔
اس نے اسٹیج پر جا کر صرف اتنا کہا:
“یہ کامیابی ان سب کے نام، جو اندھیرے میں جلتے چراغ کی طرح میرے ساتھ کھڑے رہے۔ اور ان کے نام بھی، جنہوں نے مجھے گرنے دیا تاکہ میں سیکھ سکوں کہ اٹھنا کیسے ہے۔”
انجام، مگر ایک آغاز
زینب نے اپنا کلینک کھولا، اور گاؤں لوٹی۔ وہ چاہتی تھی کہ وہاں کی لڑکیوں کو وہ خواب دیکھنے کی ہمت ملے جو اس نے دیکھا تھا۔ اب وہ نہ صرف ایک کامیاب ڈاکٹر تھی، بلکہ ایک مثال بھی تھی۔
اس کے کلینک کے باہر بورڈ پر لکھا تھا:
“اندھیرے سے روشنی تک — ہر سفر ممکن ہے اگر یقین باقی ہو۔”
Urdu Andhere Se Roshni Tak (From Darkness to Light)
اخلاقی پیغام:
زندگی کا ہر اندھیرا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ اگر حوصلہ، محنت، اور یقین ساتھ ہو، تو اندھیرے سے روشنی تک کا سفر ممکن ہے۔ زینب ہم سب کے لیے ایک چراغ ہے جو یہ سکھاتی ہے کہ خواب صرف امیروں کا حق نہیں، محنت کرنے والوں کا بھی ہوتا ہے۔
