Urdu Akhri Khwahish Stories (The Last Wish)

Urdu Akhri Khwahish Stories (The Last Wish)

 

Urdu Akhri Khwahish Stories (The Last Wish)

آخری خواہش

ایک ٹھنڈی شام تھی۔ سورج غروب ہو چکا تھا، اور پورا گاؤں سنّاٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ پرانے درختوں کی ٹہنیاں ہلکی ہوا میں سرسراتی تھیں، جیسے کوئی پرانی کہانی سنا رہی ہوں۔ گاؤں کے کونے پر ایک چھوٹا سا کچا گھر تھا، جہاں ایک بوڑھی عورت بی بی زینب اپنی زندگی کے آخری دن گن رہی تھی۔

بی بی زینب کی عمر اسی برس کے قریب تھی۔ چہرے پر جھریاں، سفید بال، اور آنکھوں میں دنیا کی ساری کہانیاں سمٹی ہوئی تھیں۔ وہ سارا دن ایک پرانی کھاٹ پر لیٹی رہتی تھیں اور شام کے وقت آسمان کو تکتی رہتیں، جیسے کسی کا انتظار کر رہی ہوں۔

ان کا ایک ہی بیٹا تھا، ارشد، جو شہر چلا گیا تھا روزگار کی تلاش میں۔ بی بی زینب کے لیے وہی ایک سہارا تھا، ایک امید، ایک زندگی کی ڈور۔ مگر پچھلے دس سالوں سے ارشد کی کوئی خبر نہ آئی، نہ کوئی خط، نہ فون۔ گاؤں والے کہتے کہ شاید وہ ماں کو بھول گیا، مگر بی بی زینب کہتیں، “نہیں، میرا بیٹا ضرور آئے گا، بس ایک دن۔”

گاؤں کی لڑکیاں روز ان کے پاس آتیں، کچھ کھانے کو دے جاتیں، کچھ حال چال پوچھ لیتیں، مگر بی بی زینب کی نظریں ہمیشہ دروازے پر لگی رہتیں۔

ایک دن گاؤں میں ایک نوجوان لڑکا آیا، جنید۔ وہ شہر سے آیا تھا اپنی نانی کے پاس کچھ دن رہنے۔ وہ اکثر بی بی زینب کے گھر جاتا، ان کی باتیں سنتا اور پرانی کہانیاں نوٹ کرتا۔ جنید کو بی بی زینب کی باتوں میں ایک الگ سی کشش محسوس ہوتی، جیسے وقت کا پہیہ پیچھے گھوم رہا ہو۔

ایک شام بی بی زینب نے جنید سے کہا، “بیٹا، کیا تم ایک کام کرو گے میرے لیے؟”
“جی دادی، حکم کریں،” جنید نے ادب سے کہا۔

“اگر میں چلی گئی، اور میرا ارشد آیا، تو اسے بتانا کہ میں ہر دن اس کا انتظار کرتی رہی۔ اور کہنا کہ اس کی ماں اسے معاف کر چکی ہے، چاہے وہ کیوں نہ آیا ہو۔”

جنید کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے بی بی زینب کا ہاتھ تھاما، “دادی، آپ کا بیٹا ضرور آئے گا۔”

اگلے دن بی بی زینب کی طبیعت مزید خراب ہو گئی۔ گاؤں کے مولوی صاحب، حکیم، سب آئے، مگر وقت کا پہیہ رکنے کو تیار تھا۔ رات کو بی بی زینب نے جنید کو پاس بلایا اور آہستہ آواز میں کہا، “میری ایک آخری خواہش ہے… میں اپنے بیٹے کو گلے لگا کر مرنا چاہتی ہوں۔”

جنید خاموش ہو گیا۔ وہ جانتا تھا یہ ممکن نہیں، مگر اس نے وعدہ کیا، “دادی، میں آپ کی آخری خواہش پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔”

اسی رات بی بی زینب کی حالت نازک ہو گئی۔ گاؤں میں خبر پھیل گئی کہ وہ شاید صبح نہ دیکھ پائیں۔ جنید نے فیصلہ کیا کہ کچھ بھی ہو جائے، اسے ارشد کو ڈھونڈنا ہے۔

وہ صبح سویرے شہر روانہ ہو گیا، پرانے پتے اور معلومات کے سہارے وہ شہر کی گلیوں میں ارشد کو ڈھونڈتا رہا۔ کئی دن گزر گئے۔ آخرکار، ایک درزی کی دکان پر اسے ایک بوڑھا شخص نظر آیا جس کا نام ارشد تھا۔ جنید نے اسے سلام کیا اور پوچھا، “کیا آپ بی بی زینب کے بیٹے ہیں؟”

ارشد چونک گیا۔ “کیا تم میری ماں کو جانتے ہو؟”

جنید نے سب کچھ بتایا۔ ارشد کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، “میں شرمندہ ہوں، میں اپنی ماں کو بھول گیا۔ میری مصروف زندگی نے مجھے جیتے جی مار دیا۔”

ارشد فوراً جنید کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ جب وہ گاؤں پہنچے، رات ہو چکی تھی۔ بی بی زینب نیم بے ہوشی میں تھیں۔ جنید نے ان کے کان میں کہا، “دادی، ارشد آیا ہے، آپ کا بیٹا واپس آ گیا ہے۔”

بی بی زینب نے کمزور آنکھیں کھولیں، اور ارشد کو دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں ایک چمک آئی، جیسے صدیوں کا انتظار ختم ہو گیا ہو۔ انہوں نے ہلکی سی آواز میں کہا، “میرا بیٹا…” اور ان کی روح پرواز کر گئی۔

ارشد ماں کے قدموں میں بیٹھ کر زار و قطار رونے لگا۔ ساری زندگی کی پچھتاوے آنکھوں سے بہنے لگے۔

 

Urdu Akhri Khwahish

Stories

 

سبق:
زندگی میں ماں باپ کی قدر وقت پر کرنی چاہیے۔ آخری خواہش ایک ماں کی محبت کی سب سے اعلیٰ مثال ہے، جس میں وہ صرف اپنے بیٹے کے گلے لگنے کی تمنا لے کر دنیا سے رخصت ہو گئی۔

 

youtube

 

5 thoughts on “Urdu Akhri Khwahish Stories (The Last Wish)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *