Urdu Choti Si Duniya (A Small World)
چھوٹی سی دنی
ایک چھوٹے سے گاؤں “نورپور” کی تنگ گلیوں میں، جہاں زندگی سادگی میں لپٹی ہوئی تھی، وہاں ایک بچی “حنا” اپنے خوابوں کی دنیا بسا رہی تھی۔ وہ بمشکل تیرہ سال کی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک الگ ہی چمک تھی۔ حنا کا گاؤں چھوٹا ضرور تھا، مگر اس کی دنیا اس سے بھی چھوٹی، مگر بے حد خاص تھی۔
حنا کا دن صبح سورج کے ساتھ طلوع ہوتا۔ وہ اپنی ماں کے ساتھ کنویں سے پانی بھرتی، مرغیوں کو دانہ ڈالتی، اور پھر اپنے چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر پرانے اخبار کے کاغذ پر تصویریں بناتی۔ اسے پڑھنے اور لکھنے کا شوق تھا، مگر گاؤں میں لڑکیوں کی تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ اس کے باپ “اکبر” کا ماننا تھا کہ لڑکیاں گھر کے کاموں کے لیے ہوتی ہیں، کتابوں کے لیے نہیں۔
مگر حنا کی ماں “رضیہ” اس کے خوابوں کو سمجھتی تھی۔ رات کو جب سب سو جاتے، تو وہ چراغ جلا کر حنا کو خاموشی سے اردو پڑھاتی۔ کبھی کوئی پرانا ناول، کبھی بچوں کی نظمیں، اور کبھی حساب کے سوال۔ رضیہ خود پانچویں جماعت تک پڑھی تھی، مگر حنا کے لیے وہ دنیا کی سب سے بڑی استاد تھی۔
ایک دن گاؤں میں ایک نیا اسکول کھلنے کی خبر آئی۔ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم نے بنایا تھا، جو غریب بچوں کو مفت تعلیم دیتی تھی۔ حنا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ اس نے باپ سے بات کی، مگر جواب وہی پرانا تھا:
“لڑکیوں کو پڑھا کر کیا کرنا ہے؟ کل کو سسرال جانا ہے، یہی ہنر سیکھ لو۔”
حنا چپ ہو گئی، مگر ماں نے ہار نہ مانی۔ کئی دنوں تک اکبر کو سمجھایا، منتیں کیں، اور آخرکار اکبر نے سخت لہجے میں کہا:
“ٹھیک ہے، مگر ایک شرط پر۔ اسکول کا کام ختم ہونے سے پہلے تمہیں گھر کے سارے کام مکمل کرنے ہوں گے۔ ورنہ اسکول بند!”
حنا نے فوراً حامی بھر لی۔
اب اس کی صبح اور بھی جلدی شروع ہوتی۔ سورج نکلنے سے پہلے وہ پانی بھرتی، جھاڑو دیتی، ناشتہ بناتی اور پھر دوپٹے میں اپنی کتابیں لپیٹ کر اسکول کی طرف بھاگتی۔ اسکول کی عمارت کچی تھی، مگر وہاں کا ماحول خوابوں سے بھرا ہوا تھا۔ استاد “سلمان صاحب” ایک نرم دل انسان تھے۔ وہ بچوں سے ایسے بات کرتے جیسے اپنے ہی بچے ہوں۔
“دنیا بڑی ہے، لیکن خواب اس سے بھی بڑے ہو سکتے ہیں،” وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے۔
ایک دن سلمان صاحب نے بچوں کو ایک مضمون لکھنے کو کہا:
Urdu Choti Si Duniya (A Small World)
“میری دنیا کیسی ہو”
حنا نے لکھا:
“میری دنیا میں سب کو برابر سمجھا جائے۔ لڑکیاں بھی اسکول جا سکیں۔ ماں باپ بیٹیوں پر فخر کریں۔ ہر بچہ خواب دیکھ سکے اور انہیں پورا کرنے کا حق رکھے۔ میری دنیا چھوٹی ہے، مگر میں اسے خوبصورت بنا سکتی ہوں۔”
سلمان صاحب نے اس مضمون کو شہر کے ایک ادبی مقابلے میں بھیج دیا۔ کچھ ہفتوں بعد خبر آئی کہ حنا کا مضمون منتخب ہوا ہے، اور وہ شہر جا کر انعام وصول کرے گی۔ یہ خبر گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ کچھ لوگ خوش ہوئے، کچھ نے اسے انا کا مسئلہ بنا لیا۔
اکبر پہلے تو ناراض ہوا، مگر جب محلے کے لوگ مبارکباد دینے لگے، تو اس کا سینہ فخر سے چوڑا ہو گیا۔
“میری بیٹی نے شہر میں نام کمایا ہے!” وہ ہر کسی سے فخر سے کہتا۔
شہر جانا حنا کے لیے کسی خواب سے کم نہ تھا۔ پہلی بار بس میں بیٹھنا، اونچی عمارتیں دیکھنا، اسکول کے بچوں سے بات کرنا — ہر لمحہ اسے نئی دنیا کی جھلک دیتا۔ جب اس نے اسٹیج پر جا کر انعام لیا، تو اس کے چہرے پر وہ روشنی تھی جو کسی چراغ میں نہیں ملتی۔
Urdu Dil Ki Baat (The Matter of the Heart)
واپسی پر، سلمان صاحب نے حنا سے کہا:
“تم جیسی بچیاں ہی اس ملک کی اصل امید ہیں۔ اپنی چھوٹی دنیا کو بڑا بنانا سیکھو، اور کبھی ہار نہ مانو۔”
گاؤں واپس آ کر حنا نے وہ ٹرافی ماں کو تھما دی، جو اسے سب سے زیادہ عزیز تھی۔
رضیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر ہونٹوں پر مسکراہٹ۔
“یہ تمہاری محنت کا صلہ ہے، بیٹی۔”
رفتہ رفتہ، اکبر بھی بدلنے لگا۔ اب وہ خود حنا کو اسکول چھوڑنے جاتا۔ رضیہ محلے کی دوسری عورتوں کو بھی تعلیم کی اہمیت بتانے لگی۔ اور یوں، ایک چھوٹی سی بچی کی چھوٹی دنیا، آہستہ آہستہ بہت سی دنیاوں کو بدلنے لگی۔
اختتام
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ خوابوں کا تعلق نہ عمر سے ہوتا ہے، نہ جگہ سے۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کی بچی بھی اپنی محنت اور ہمت سے دنیا کو بدل سکتی ہے — بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنی “چھوٹی سی دنیا” کو سنوارنے کی جرأت رکھے۔

One thought on “Urdu Choti Si Duniya (A Small World)”