Urdu Woh Pehla Pyaar (That First Love) | Urdu Quotes
وہ پہلا پیار
زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وقت کے سفر میں کھو تو جاتے ہیں، مگر یادوں کی دھندلی گلیوں میں ہمیشہ جگمگاتے رہتے ہیں۔ وہ لمحے جنہیں انسان چاہ کر بھی بھلا نہیں پاتا۔ ایسا ہی ایک لمحہ زارا کی زندگی میں بھی آیا تھا، جب اسے پہلی بار محبت ہوئی۔
زارا ایک خاموش طبیعت، کتابوں سے محبت کرنے والی لڑکی تھی۔ وہ لاہور کی ایک یونیورسٹی میں انگریزی ادب کی طالبہ تھی۔ ہمیشہ سب سے الگ تھلگ رہتی، جیسے کسی اور ہی دنیا کی باسی ہو۔ اس کی دنیا میں صرف الفاظ، خواب اور خیال تھے۔ مگر پھر ایک دن اس کی زندگی کا رخ بدل گیا۔
یہ خزاں کا موسم تھا، جب درخت اپنے پتے گرا کر نئے رنگوں کی تیاری کر رہے تھے۔ زارا لائبریری میں بیٹھی تھی جب پہلی بار اُس نے اُسے دیکھا — وہ لڑکا جو سب سے مختلف تھا۔ نیلے رنگ کی شرٹ، کندھوں پر بیگ، چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ اور آنکھوں میں کوئی ان کہی کہانی۔
اس کا نام احمد تھا۔
احمد اردو ادب کا طالب علم تھا۔ وہ شاعری سے عشق کرتا تھا اور اکثر اپنے اشعار دوستوں میں سنایا کرتا تھا۔ اس کی مسکراہٹ میں عجیب سا سکون تھا، اور انداز میں بلا کی سادگی۔ زارا نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ کسی اجنبی سے یوں کھچ جائے گی۔
احمد اور زارا کی پہلی ملاقات ایک سیمینار میں ہوئی۔ دونوں کو ایک ہی موضوع پر گفتگو کرنی تھی: “محبت اور ادب کا تعلق”۔ احمد نے اپنی باتوں میں غالب، میر اور فیض کو شامل کیا جبکہ زارا نے شیکسپیئر اور کیٹس کا حوالہ دیا۔ مگر ان کے انداز میں ایسی ہم آہنگی تھی کہ سب نے داد دی۔
یہیں سے دوستی کی بنیاد پڑی۔
دن گزرتے گئے۔ احمد اور زارا اکثر لائبریری میں ملتے، کافی پیتے، شاعری پر گفتگو کرتے۔ وہ ایک دوسرے کی سوچ، خیالات، خواب اور نظریات میں کھو گئے تھے۔ احمد زارا کے لیے نظمیں لکھتا اور زارا اس کی باتوں پر ہنستی، شرماتی، اور پھر خاموش ہو جاتی۔ ان کے درمیان کوئی اعتراف نہیں تھا، بس ایک خاموش تعلق، جو لفظوں سے زیادہ گہرا تھا۔
زارا کی دنیا اب بدل چکی تھی۔ وہ اب کھل کر ہنستی تھی، زندگی سے جُڑنے لگی تھی۔ احمد کی باتوں نے اسے جینے کا ڈھنگ سکھا دیا تھا۔ مگر جیسے ہر خوبصورت لمحہ عارضی ہوتا ہے، ان کا ساتھ بھی ایک موڑ پر آ کر رک گیا۔
Woh Pehla Pyaar
احمد کو اسکالرشپ پر لندن جانا تھا۔ وہ اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے جا رہا تھا، اور زارا اس کی خوشی میں خوش تو تھی، مگر دل کے کسی کونے میں درد چھپائے ہوئے۔
جانے سے پہلے، احمد نے زارا کو یونیورسٹی کے باغ میں بلایا۔ خزاں کی پتیوں کے درمیان وہ دونوں خاموش کھڑے تھے۔
“زارا…” احمد نے نرمی سے کہا، “میں جا رہا ہوں، لیکن ایک بات کہنا چاہتا ہوں جو کبھی کہہ نہ سکا۔”
زارا نے دھڑکتے دل کے ساتھ اُس کی طرف دیکھا۔
“میری شاعری، میرے لفظ، میرے خواب… سب تم ہو۔ اگر یہ پہلا پیار ہے، تو میں چاہتا ہوں کہ یہ آخری بھی ہو۔”
زارا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر وہ مسکرائی۔
“یہی تو مسئلہ ہے احمد، پہلا پیار کبھی نہیں بھلایا جاتا… اور اکثر ادھورا رہ جاتا ہے۔”
احمد نے اس کا ہاتھ تھاما، اور پہلی بار خاموشی نے سب کچھ کہہ دیا۔
وہ چلا گیا۔ وقت گزرتا رہا۔ زارا نے اپنی تعلیم مکمل کی، استاد بن گئی، لیکن احمد کے لفظ اُس کے دل میں بستے رہے۔ وہ اکثر اس کی لکھی نظمیں پڑھتی، اور ماضی کی خوشبو میں کھو جاتی۔
ایک دن، کئی برس بعد، زارا کو ایک پارسل ملا۔ اندر ایک کتاب تھی — احمد کی لکھی گئی شاعری کی کتاب۔ کتاب کے پہلے صفحے پر لکھا تھا:
“میری شاعری اس کے نام، جو میرے پہلے اور آخری خواب کی تعبیر ہے… زارا”
زارا نے کتاب کو سینے سے لگا لیا، آنکھیں بند کیں، اور مسکرا دی۔
کیونکہ وہ جانتی تھی، پہلا پیار کبھی مرتا نہیں… وہ بس دل کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتا ہے۔

3 thoughts on “Urdu Woh Pehla Pyaar (That First Love) | Urdu Quotes”