Tuta Hua Tara Urdu Stories | Falling Star
ٹوٹا ہوا تارا
سیاہ رات کا ایک پرسکون لمحہ تھا۔ آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا، جیسے کسی مصور نے نیلے کینوس پر چمکتے ہوئے نگینے بکھیر دیے ہوں۔ انہی ستاروں میں سے ایک اچانک ٹوٹا اور زمین کی طرف گرا۔ لوگ کہتے ہیں کہ جب کوئی تارا ٹوٹتا ہے تو کوئی خواہش پوری ہوتی ہے۔ مگر کسی نے کبھی یہ نہ سوچا کہ اُس ٹوٹے ہوئے تارے کا کیا ہوتا ہے؟
یہ کہانی ایک ایسے ٹوٹے ہوئے تارے کی ہے، جو آسمان سے زمین پر گرا اور انسانوں کی دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
پہلا منظر: آسمان سے زمین تک
تارا جس کا نام “نور” تھا، آسمان کے سب سے روشن ستاروں میں شمار ہوتا تھا۔ وہ ہر رات بچوں کے خوابوں میں جگمگاتا، ان کی کہانیوں کا حصہ بنتا، اور چاند کے ساتھ کھیلتا۔ لیکن ایک رات کچھ عجیب ہوا۔ ایک کالی سایہ دار طاقت نے آسمان پر قبضہ جمانے کی کوشش کی، اور اسی کشمکش میں نور اپنی جگہ سے ٹوٹ کر زمین پر آ گرا۔
وہ ایک پہاڑی گاؤں میں گرا، جہاں اندھیرا تھا، سردی تھی، اور خاموشی تھی۔ زمین کی مٹی نرم تھی، مگر نور کے دل میں دکھ کی ایک چبھن تھی۔ اس کی روشنی کمزور ہو چکی تھی، اور وہ اکیلا محسوس کر رہا تھا۔
دوسرا منظر: ننھی زویا کی دنیا
اسی گاؤں میں ایک چھوٹی سی بچی رہتی تھی، جس کا نام زویا تھا۔ زویا چھ سال کی تھی، ہنستی مسکراتی، مگر اس کی زندگی میں غم کا سایہ تھا۔ اس کی ماں ایک سال پہلے گزر گئی تھی، اور والد ہر وقت کام میں مصروف رہتے تھے۔ زویا اکثر آسمان کی طرف دیکھتی اور ماں کو یاد کرتی۔
جب وہ رات کو کھڑکی کے پاس بیٹھی تھی، اس نے ایک تارا ٹوٹتے دیکھا۔ وہ دوڑتی ہوئی باہر گئی اور پہاڑی کے کنارے پر وہ جگہ تلاش کی جہاں کچھ چمک رہا تھا۔
زویا نے دیکھا کہ وہاں ایک چھوٹا سا روشن ذرہ پڑا ہے، جو آہستہ آہستہ ہلکی روشنی دے رہا تھا۔ وہ قریب گئی، ہاتھ بڑھایا، اور کہا:
“کیا تم ایک تارا ہو؟”
نور نے مدھم آواز میں جواب دیا، “ہاں، میں ایک تارا ہوں۔ لیکن اب میں ٹوٹ چکا ہوں۔”
زویا نے نرمی سے کہا، “تم اکیلے ہو؟”
نور نے اثبات میں سر ہلایا۔
زویا نے اسے اپنی مٹھی میں اٹھایا، اور کہا، “تو آؤ، ہم دوست بن جاتے ہیں۔”
تیسرا منظر: دوستی کی روشنی
زویا نے نور کو ایک چھوٹے سے شیشے کے مرتبان میں رکھ لیا۔ وہ مرتبان ہر رات اس کے تکیے کے پاس جگمگاتا۔ زویا اسے کہانیاں سناتی، اپنے دل کی باتیں بتاتی، اور کبھی کبھی روتے ہوئے اپنی ماں کو یاد کرتی۔
نور کی روشنی آہستہ آہستہ واپس آنے لگی، کیونکہ اس نے پہلی بار کسی کی آنکھوں میں محبت دیکھی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ وہ اب آسمان کا حصہ نہیں، مگر زمین پر کسی کی زندگی کا حصہ ضرور ہے۔
زویا کے چہرے پر وہ روشنی واپس آنے لگی تھی جو اس کی ماں کے جانے کے بعد کھو گئی تھی۔
چوتھا منظر: خواب اور خواہشیں
ایک رات زویا نے نور سے پوچھا، “کیا تم واپس آسمان پر جا سکتے ہو؟”
نور نے تھوڑے افسوس سے کہا، “شاید نہیں۔ میں اب ویسا روشن نہیں جیسا پہلے تھا۔”
زویا نے آسمان کی طرف دیکھا، اور آہستہ سے بولی، “اگر میں تمہیں واپس بھیج سکوں، تو تم جاؤ گے؟”
نور خاموش ہو گیا۔ اس کے دل میں ایک کشمکش تھی۔ وہ زویا کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا، مگر وہ جانتا تھا کہ اس کا اصل مقام آسمان ہے۔
زویا نے کہا، “میں چاہتی ہوں کہ تم واپس جا کر پھر سے سب کے لیے جگمگاؤ۔ بچوں کے لیے، میری ماں کے لیے، میرے لیے۔”
Tuta Hua Tara
پانچواں منظر: قربانی کی چمک
زویا نے ایک پہاڑی پر جا کر نور کو آسمان کی طرف اُچھالنے کی کوشش کی، مگر وہ واپس نیچے آ گیا۔
تب اچانک آسمان پر چاند روشن ہوا، اور دوسرے ستارے ایک دائرے میں جمع ہو گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹا سا انسان نور کو بچا رہا ہے، چاہتا ہے کہ وہ واپس آ جائے۔
تب آسمانی روشنی نیچے آئی، اور نور کو دوبارہ اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دی۔ مگر شرط یہ تھی کہ وہ کبھی واپس زمین پر نہ آ سکے۔
نور نے زویا کی طرف دیکھا، اور ایک آخری بار چمکا۔ اس کی روشنی اتنی تیز تھی کہ زویا کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ مگر وہ مسکرا رہی تھی۔
“جاؤ، میرے دوست۔ جگمگاؤ سب کے لیے۔”
نور آسمان پر واپس گیا، اور پھر سے روشن ہو گیا، پہلے سے بھی زیادہ۔
آخری منظر: یاد کی روشنی
زویا اب بڑی ہو چکی ہے۔ وہ اکثر بچوں کو کہانی سناتی ہے “ٹوٹے ہوئے تارے” کی۔ وہ انہیں بتاتی ہے کہ اصل روشنی دوسروں کے لیے چمکنے میں ہے۔
ہر رات جب وہ آسمان کی طرف دیکھتی ہے، اسے وہی تارا نظر آتا ہے جو سب سے زیادہ چمکتا ہے۔ اور وہ جانتی ہے، کہ وہ “نور” ہے — اس کا دوست، جو کبھی ٹوٹا تھا، مگر اب سب کے لیے چمکتا ہے۔
سبق:
کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب ہم دوسروں کے لیے قربانی دیتے ہیں، تب ہی ہم اصل میں جگمگاتے ہیں۔ چاہے ہم کتنے ہی کمزور ہو جائیں، محبت اور خلوص ہمیں دوبارہ روشن کر سکتے ہیں۔
