🌿 Akhri Patta (The Last Leaf) Urdu Stories | Urdu Quotes
🌿 آخری پتّہ
(ایک سبق آموز کہانی)
ایک چھوٹے سے شہر میں دو سہیلیاں، سہانا اور میرا، ایک کرائے کے پرانے مکان میں رہتی تھیں۔ دونوں ہی فنونِ لطیفہ کی طالبات تھیں اور پینٹنگ کرنا ان کا شوق اور پیشہ تھا۔ انہوں نے ایک خوبصورت خواب لے کر وہ شہر چھوڑا تھا جہاں وہ پیدا ہوئی تھیں، تاکہ شہرِ فن میں اپنی پہچان بنا سکیں۔
سہانا ہنستی کھیلتی، زندگی سے بھرپور لڑکی تھی، جبکہ میرا تھوڑی سنجیدہ مزاج اور کمزور دل کی مالک تھی۔ سردیوں کا موسم تھا، اور میرا سخت بیمار پڑ گئی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے نمونیا ہو گیا ہے، اور اگر اس نے ہمت نہ کی تو دوا بھی کام نہیں کرے گی۔ میرا بستر سے اٹھنے سے قاصر تھی، اور ہر دن کھڑکی کے پاس لیٹی رہتی، جہاں سے ایک پرانا انگور کا بیل نظر آتا تھا جو پڑوس کی دیوار پر چڑھا ہوا تھا۔
دن بدن اس بیل کے پتے جھڑتے جا رہے تھے۔ میرا ہر دن گنتی کرتی، “دس پتے رہ گئے… آٹھ رہ گئے… اب صرف تین…” سہانا اس کی یہ باتیں سن کر پریشان ہو جاتی تھی، لیکن وہ کچھ کہہ نہیں پاتی۔ پھر ایک دن میرا نے اداسی سے کہا، “جب یہ آخری پتہ بھی گر جائے گا، تو میں بھی مر جاؤں گی… کیونکہ میری زندگی بھی اسی بیل سے جُڑی ہے…”
سہانا نے اسے بہت سمجھانے کی کوشش کی، کہا کہ تمہاری زندگی تمہارے حوصلے میں ہے، کسی بیل کے پتوں میں نہیں۔ مگر میرا جیسے یقین کر چکی تھی کہ اس کی زندگی کا اختتام آخری پتے کے گرنے سے جُڑا ہے۔
اسی محلے میں ایک اور بوڑھا مصور رہتا تھا، جس کا نام بہرام چچا تھا۔ وہ اکیلا رہتا تھا، بہت خاموش طبع، مگر دل کا نہایت نرم۔ جب سہانا نے بہرام چچا کو میرا کی حالت اور اس کے یقین کی بات بتائی، تو وہ بہت دیر خاموش رہا، پھر صرف اتنا کہا، “فکر نہ کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا…”
اگلی رات بہت تیز بارش ہوئی، آندھی آئی، بیل کے سارے پتے جھڑ گئے۔ صبح جب سہانا نے کھڑکی سے جھانکا، تو حیران رہ گئی—دیوار پر ایک پتہ اب بھی موجود تھا۔ بالکل اصلی لگنے والا، مگر نہ ہل رہا تھا نہ جھڑ رہا تھا۔ میرا نے وہی پتہ دیکھا اور کہا، “یہ اب تک نہیں گرا؟ شاید مجھے بھی ابھی نہیں جانا چاہیے…”
دوسرے دن بھی وہ پتہ ویسے کا ویسا رہا۔ میرا نے اندر سے جینے کی امید محسوس کی۔ آہستہ آہستہ اس کی حالت بہتر ہونے لگی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ اب وہ خطرے سے باہر ہے، اور اگر یہی حوصلہ برقرار رہا، تو وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو جائے گی۔
Akhri Patta (The Last Leaf)
Urdu Stories
کچھ دن بعد، سہانا بہرام چچا کے کمرے میں گئی تاکہ اس کا شکریہ ادا کرے۔ لیکن وہاں اسے ایک اور حقیقت کا سامنا ہوا۔ بہرام چچا شدید بیمار پڑ گئے تھے۔ اسی رات جب آندھی آئی تھی، وہ بھیگتے ہوئے دیوار کے پاس گئے تھے، اور انہوں نے ہاتھ میں برش اور رنگ لے کر وہ “آخری پتہ” پینٹ کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ میرا کو امید ملے، وہ پتا گرے نہیں—اس کی زندگی بچ جائے۔
وہ بوڑھے ہاتھ سردی اور بارش میں کام کرتے رہے، صرف کسی کی زندگی کے لیے… اور اسی رات انہیں بخار ہو گیا، جو ان کی جان لے گیا۔
میرا بچ گئی، مگر بہرام چچا نہیں۔ جب سہانا نے اسے یہ سب بتایا، تو میرا کی آنکھوں سے آنسو جھلک پڑے۔ اس نے وہ “پتہ” دیکھا جو اب بھی دیوار پر موجود تھا، اور کہا،
“یہ صرف ایک پتا نہیں، یہ ایک فنکار کی آخری تخلیق تھی… اور میری نئی زندگی کا آغاز بھی۔”
🌱 سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ امید اور حوصلہ ہی اصل زندگی ہے۔ بعض اوقات دوسروں کے لیے کی گئی چھوٹی سی قربانی، ان کی پوری دنیا بدل دیتی ہے۔ بہرام چچا جیسے لوگ دنیا میں کم ہوتے ہیں، مگر وہ اپنے فن اور جذبے سے دوسروں کی زندگی روشن کر جاتے ہیں۔

3 thoughts on “Akhri Patta (The Last Leaf) | Urdu Quotes”